سورۃ الانفال
وَإِذْ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحْدَى ٱلطَّآئِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ ٱلشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَـٰتِهِۦ وَيَقْطَعَ دَابِرَ ٱلْكَـٰفِرِينَ
Wa iż ya‘idukumullāhu iḥdaṭ-ṭā'ifataini annahā lakum wa tawaddūna anna gaira żātisy-syaukati takūnu lakum wa yurīdullāhu ay yuḥiqqal-ḥaqqa bikalimātihī wa yaqṭa‘a dābiral-kāfirīn(a).
یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مِل جائے گا تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے
📝 حاشیہ
٣٠٦) ان دو گروہوں سے مراد ابو سفیان کا وہ قافلہ ہے جو شام سے تجارتی سامان لا رہا تھا، اور دوسرا مکہ سے آنے والا وہ مسلح لشکر تھا جس کی قیادت عتبہ بن ربیعہ اور ابو جہل کر رہے تھے۔