سورۃ الانفال

إِذْ أَنتُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلدُّنْيَا وَهُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلْقُصْوَىٰ وَٱلرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنكُمْ ۚ وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَٱخْتَلَفْتُمْ فِى ٱلْمِيعَـٰدِ ۙ وَلَـٰكِن لِّيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَىَّ عَنۢ بَيِّنَةٍ ۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ

Iż antum bil-‘udwatid-dun-yā wa hum bil-‘udwatil-quṣwā war-rakbu asfala minkum, wa lau tawā‘attum lakhtalaftum fil-mī‘ād(i), wa lākil liyaqḍiyallāhu amran kāna maf‘ūlā(n), liyahlika man halaka ‘am bayyinatiw wa yaḥyā may ḥayya ‘am bayyinah(tin), wa innallāha lasamī‘un ‘alīm(un).

یاد کرو وہ وقت جبکہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دُوسری جانب پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل) کی طرف تھا اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرارداد ہو چکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کر جاتے، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا اسے ظہُور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً خدا سُننے والا اور جاننے والا ہے

📝 حاشیہ
٣١٥) اس وقت مسلمان وادی کے اس کنارے پر تھے جو مدینہ سے قریب تھا اور کافر وادی کے اس دور والے کنارے پر تھے (جو مکہ کی طرف تھا)۔ جہاں تک ابو سفیان کی قیادت میں تجارتی قافلے کا تعلق ہے، تو وہ ساحلِ سمندر پر بدر سے تقریباً 5 میل کے فاصلے پر نیچے کی طرف تھا۔

تمام آیات 75 آیات
آج ہی پڑھنا شروع کریں

قرآن پڑھنا اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنائیں۔ Quran Today آپ کو پریشانیوں کے بغیر پڑھنا جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے، ایک آسان، تیز، نجی اور آرام دہ تجربے کے ساتھ۔