سورۃ النساء
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا ٱلْمَسِيحَ عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ لَفِى شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِۦ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا ٱتِّبَاعَ ٱلظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًۢا
Wa qaulihim innā qatalnal-masīḥa ‘īsabna maryama rasūlallāh(i), wa mā qatalūhu wa mā ṣalabūhu wa lākin syubbiha lahum, wa innal-lażīnakhtalafū fīhi lafī syakkim minh(u), mā lahum bihī min ‘ilmin illattibā‘aẓ-ẓanni wa mā qatalūhu yaqīnā(n).
اور خود کہا کہ ہم نے مسیح، عیسیٰ ابن مریم، رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے حالانکہ فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا گیا اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں، ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے، محض گمان ہی کی پیروی ہے انہوں نے مسیح کو یقین کے ساتھ قتل نہیں کیا
📝 حاشیہ
١٨٤) یہ آیت اہل کتاب کے اس گمان کی تردید کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر فوت ہوئے تھے۔