سورۃ النساء
يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ ٱللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِى ٱلْكَلَـٰلَةِ ۚ إِنِ ٱمْرُؤٌا۟ هَلَكَ لَيْسَ لَهُۥ وَلَدٌ وَلَهُۥٓ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَتَا ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا ٱلثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ ۚ وَإِن كَانُوٓا۟ إِخْوَةً رِّجَالًا وَنِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۗ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّوا۟ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۢ
Yastaftūnak(a), qulillāhu yuftīkum fil-kalālah(ti), inimru'un halaka laisa lahū waladuw wa lahū ukhtun fa lahā niṣfu mā tarak(a), wa huwa yariṡuhā illam yakul lahā walad(un), fa in kānataṡnataini fa lahumaṡ-ṡuluṡāni mimmā tarak(a), wa in kānū ikhwatar rijālaw wa nisā'an fa liż-żakari miṡlu ḥaẓẓil-unṡayain(i), yubayyinullāhu lakum an taḍillū, wallāhu bikulli syai'in ‘alīm(un).
لوگ تم سے کلالہ کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں کہو اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے اگر کوئی شخص بے اولاد مر جائے اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی، اور اگر بہن بے اولاد مرے تو بھائی اس کا وارث ہوگا اگر میت کی وارث دو بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار ہوں گی، اور اگر کئی بھائی بہنیں ہوں تو عورتوں کا اکہرا اور مردوں کا دوہرا حصہ ہوگا اللہ تمہارے لیے احکام کی توضیح کرتا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
📝 حاشیہ
١٩١) کلالہ وہ شخص ہے جو اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس کے پیچھے نہ اس کا باپ (یا دادا) زندہ ہو اور نہ ہی کوئی اولاد۔