سورۃ النساء

يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ لَا تَغْلُوا۟ فِى دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ ۚ إِنَّمَا ٱلْمَسِيحُ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ ٱللَّهِ وَكَلِمَتُهُۥٓ أَلْقَىٰهَآ إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ ۖ وَلَا تَقُولُوا۟ ثَلَـٰثَةٌ ۚ ٱنتَهُوا۟ خَيْرًا لَّكُمْ ۚ إِنَّمَا ٱللَّهُ إِلَـٰهٌ وَٰحِدٌ ۖ سُبْحَـٰنَهُۥٓ أَن يَكُونَ لَهُۥ وَلَدٌ ۘ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا

Yā ahlal-kitābi lā taglū fī dīnikum wa lā taqūlū ‘alallāhi illal-ḥaqq(a), innamal-masīḥu ‘īsabnu maryama rasūlullāhi wa kalimatuh(ū), alqāhā ilā maryama wa rūḥum minh(u), fa āminū billāhi wa rusulih(ī), wa lā taqūlū ṡalāṡah(tun), inntahū khairal lakum innamallāhu ilāhuw wāḥid(un), subḥānahū ay yakūna lahū walad(un), lahū mā fis-samāwāti wa mā fil-arḍ(i), wa kafā billāhi wakīlā(n).

اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کرو مسیح عیسیٰ ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول تھا اور ایک فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور ایک روح تھی اللہ کی طرف سے (جس نے مریم کے رحم میں بچہ کی شکل اختیار کی) پس تم اللہ اور اُ س کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نہ کہو کہ "تین" ہیں باز آ جاؤ، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے وہ بالا تر ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں اس کی مِلک ہیں، اور ان کی کفالت و خبر گیری کے لیے بس وہی کافی ہے

📝 حاشیہ
‏١٨٨) غلو (حد سے بڑھنے) میں یہ شامل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کہا جائے جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں۔ ‏١٨٩) کلمہ سے مراد اللہ کا حکم "کُن" (ہو جا!) ہے، جس کے ذریعے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کیا گیا۔ ‏١٩٠) اسے اللہ کی طرف سے پھونکی جانے والی روح اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ یہ پھونک اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے حکم سے تھی۔

تمام آیات 176 آیات
آج ہی پڑھنا شروع کریں

قرآن پڑھنا اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنائیں۔ Quran Today آپ کو پریشانیوں کے بغیر پڑھنا جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے، ایک آسان، تیز، نجی اور آرام دہ تجربے کے ساتھ۔