سورۃ النساء
وَٱلَّـٰتِى يَأْتِينَ ٱلْفَـٰحِشَةَ مِن نِّسَآئِكُمْ فَٱسْتَشْهِدُوا۟ عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِّنكُمْ ۖ فَإِن شَهِدُوا۟ فَأَمْسِكُوهُنَّ فِى ٱلْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّىٰهُنَّ ٱلْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ ٱللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا
Wal-lātī ya'tīnal-fāḥisyata min nisā'ikum fastasyhidū ‘alaihinna arba‘atam minkum, fa in syahidū fa amsikūhunna fil-buyūti ḥattā yatawaffāhunnal-mautu au yaj‘alallāhu lahunna sabīlā(n).
تمہاری عورتوں میں سے جو بد کاری کی مرتکب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو، اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا اللہ اُن کے لیے کوئی راستہ نکال دے
📝 حاشیہ
۱۴۸) اس آیت میں "فحشاء" (بے حیائی) کے لفظ کا مطلب زنا ہے۔ تاہم، ایک اور رائے کے مطابق، یہ لفظ دیگر بیہودہ افعال کو بھی شامل کرتا ہے، جیسے ہم جنس پرستی وغیرہ۔ ۱۴۹) "دوسرا راستہ" سے مراد سورۃ النور (۲۴:۲) کا نزول ہے جو کوڑے مارنے کی سزا کے بارے میں ہے۔