سورۃ النساء
وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَـٰهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ ٱللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا
Wa rusulan qad qaṣaṣnāhum ‘alaika wa rusulal lam naqṣuṣhum ‘alaik(a), wa kallamallāhu mūsā taklīmā(n).
ہم نے اُن رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اِس سے پہلے تم سے کر چکے ہیں اور اُن رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا ہم نے موسیٰؑ سے اِس طرح گفتگو کی جس طرح گفتگو کی جاتی ہے
📝 حاشیہ
١٨٧) حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے براہِ راست کلام کیا، اسی لیے انہیں "کلیم اللہ" کہا جاتا ہے۔ باقی تمام انبیاء کرام نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کا کلام وصول کیا، سوائے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے، جنہوں نے معراج کے موقع پر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے براہِ راست کلام فرمایا۔