سورۃ النساء
مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَٱسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَٰعِنَا لَيًّۢا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِى ٱلدِّينِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَٱسْمَعْ وَٱنظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَـٰكِن لَّعَنَهُمُ ٱللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا
Minal-lażīna hādū yuḥarrifūnal-kalima ‘am mawāḍi‘ihī wa yaqūlūna sami‘nā wa ‘aṣainā wasma‘ gaira musmi‘iw wa rā‘inā layyam bi'alsinatihim wa ṭa‘nan fid-dīn(i), wa lau annahum qālū sami‘nā wa aṭa‘nā wasma‘ wanẓurnā lakāna khairal lahum wa aqwam(a), wa lākil la‘anahumullāhu bikufrihim falā yu'minūna illā qalīlā(n).
جو لوگ یہودی بن گئے ہیں اُن میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو اُن کے محل سے پھیر دیتے ہیں اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں سَمِعنَا وَ عَصَینَا اور اِسمَع غَیر مُسمَع اور رَاعِنَا حالانکہ اگر وہ کہتے سَمِعنَا وَ اَطَعنَا، اور اِسمَع اور اُنظُرنَا تو یہ انہی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راستبازی کا طریقہ تھا مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں
📝 حاشیہ
١٥٧) سورۃ البقرۃ ٢: ١٠٤ کے حاشیے کو دیکھیں۔