سورۃ النساء
وَيَسْتَفْتُونَكَ فِى ٱلنِّسَآءِ ۖ قُلِ ٱللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِى ٱلْكِتَـٰبِ فِى يَتَـٰمَى ٱلنِّسَآءِ ٱلَّـٰتِى لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلْوِلْدَٰنِ وَأَن تَقُومُوا۟ لِلْيَتَـٰمَىٰ بِٱلْقِسْطِ ۚ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِهِۦ عَلِيمًا
Wa yastaftūnaka fin-nisā'(i), qulillāhu yuftīkum fīhinn(a), wa mā yutlā ‘alaikum fil-kitābi fī yatāman-nisā'il-lātī lā tu'tūnahunna mā kutiba lahunna wa targabūna an tankiḥūhunna wal-mustaḍ‘afīna minal-wildān(i), wa an taqūmū lil-yatāmā bil-qisṭ(i), wa mā taf‘alū min khairin fa innallāha kāna bihī ‘alīmā(n).
لو گ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں کہو اللہ تمہیں اُن کے معاملہ میں فتویٰ دیتا ہے، اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سنائے جا رہے ہیں یعنی وہ احکام جو اُن یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو (یا لالچ کی بنا پر تم خود ان سے نکاح کر لینا چاہتے ہو)، او ر وہ احکام جو اُن بچوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو، اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی
📝 حاشیہ
١٦٩) سورۃ النساء ٤: ٢-٣ ملاحظہ کریں۔ ١٧٠) زمانہ جاہلیت کے عربوں کے دستور کے مطابق، ولی کو اپنی زیرِ کفالت یتیم لڑکی اور اس کے مال پر مکمل اختیار حاصل تھا۔ اگر یتیم لڑکی خوبصورت ہوتی تو ولی اس سے شادی کر کے اس کے مال پر قبضہ کر لیتا، اور اگر وہ بدصورت ہوتی تو اسے کسی اور سے شادی کرنے سے روک دیتا تاکہ وہ خود اس کے مال پر قابض رہ سکے۔ یہ آیت اس رسم کی ممانعت کرتی ہے۔