سورۃ النساء
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا۟ ٱلنِّسَآءَ كَرْهًا ۖ وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا۟ بِبَعْضِ مَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّآ أَن يَأْتِينَ بِفَـٰحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُوهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰٓ أَن تَكْرَهُوا۟ شَيْـًٔا وَيَجْعَلَ ٱللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا
Yā ayyuhal-lażīna āmanū lā yaḥillu lakum an tariṡun-nisā'a karhā(n), wa lā ta‘ḍulūhunna litażhabū biba‘ḍi mā ātaitumūhunna illā ay ya'tīna bifāḥisyatim mubayyinah(tin), wa ‘āsyirūhunna bil-ma‘rūf(i), fa in karihtumūhunna fa ‘asā an takrahū syai'aw wa yaj‘alallāhu fīhi khairan kaṡīrā(n).
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے اُس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو ہاں اگر وہ کسی صریح بد چلنی کی مرتکب ہو ں (تو ضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے) ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اُسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو
📝 حاشیہ
١٥٠) اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیویوں کو مال کی طرح میراث میں لیا جا سکتا ہے، چاہے زبردستی نہ بھی ہو۔ جاہلیت کے رواج کے مطابق، بڑا بیٹا یا خاندان کا کوئی اور فرد اپنے والد کی وفات کے بعد اس کی بیوہ کا وارث بن سکتا تھا۔