سورۃ النساء

۞ وَٱلْمُحْصَنَـٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُمْ ۖ كِتَـٰبَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا۟ بِأَمْوَٰلِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَـٰفِحِينَ ۚ فَمَا ٱسْتَمْتَعْتُم بِهِۦ مِنْهُنَّ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَٰضَيْتُم بِهِۦ مِنۢ بَعْدِ ٱلْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا

Wal-muḥṣanātu minan-nisā'i illā mā malakat aimānukum, kitāballāhi ‘alaikum, wa uḥilla lakum mā warā'a żālikum an tabtagū bi'amwālikum muḥṣinīna gaira musāfiḥīn(a), famastamta‘tum bihī minhunna fa ātūhunna ujūrahunna farīḍah(tan), wa lā junāḥa ‘alaikum fīmā tarāḍaitum bihī mim ba‘dil-farīḍah(ti), innallāha kāna ‘alīman ḥakīmā(n).

اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں (محصنات) البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں جو (جنگ میں) تمہارے ہاتھ آئیں یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کر دی گئی ہے اِن کے ماسوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعہ سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے، بشر طیکہ حصار نکاح میں اُن کو محفوظ کرو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھاؤ اس کے بدلے اُن کے مہر بطور فرض ادا کرو، البتہ مہر کی قرارداد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اللہ علیم اور دانا ہے

📝 حاشیہ
١٥٢) اس سے مراد وہ لونڈیاں ہیں جو جنگی قیدی بننے کی وجہ سے ملکیت میں آئیں، جبکہ ان کے شوہر ان کے ساتھ قید نہیں ہوئے تھے (دیکھیں سورۃ النساء/٤: ٣)۔ ١٥٣) اس کا مطلب یہ ہے کہ بیوی چاہے تو اپنے شوہر سے طے شدہ مہر کا کچھ حصہ یا پورا مہر ادا کرنے کا مطالبہ نہ کرے، یا شوہر مقررہ مہر سے زیادہ ادا کرے۔

تمام آیات 176 آیات
آج ہی پڑھنا شروع کریں

قرآن پڑھنا اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنائیں۔ Quran Today آپ کو پریشانیوں کے بغیر پڑھنا جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے، ایک آسان، تیز، نجی اور آرام دہ تجربے کے ساتھ۔