سورۃ النساء
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَـٰتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَٰتُكُمْ وَعَمَّـٰتُكُمْ وَخَـٰلَـٰتُكُمْ وَبَنَاتُ ٱلْأَخِ وَبَنَاتُ ٱلْأُخْتِ وَأُمَّهَـٰتُكُمُ ٱلَّـٰتِىٓ أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَـٰعَةِ وَأُمَّهَـٰتُ نِسَآئِكُمْ وَرَبَـٰٓئِبُكُمُ ٱلَّـٰتِى فِى حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّـٰتِى دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا۟ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَـٰٓئِلُ أَبْنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنْ أَصْلَـٰبِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا۟ بَيْنَ ٱلْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا
Ḥurrimat ‘alaikum ummahātukum wa banātukum wa akhawātukum wa ‘ammātukum wa khālātukum wa banātul-akhi wa banātul-ukhti wa ummahātukumul-lātī arḍa‘nakum wa akhawātukum minar-raḍā‘ati wa ummahātu nisā'ikum wa rabā'ibukumul-lātī fī ḥujūrikum min nisā'ikumul-lātī dakhaltum bihinn(a), fa illam takūnū dakhaltum bihinna falā junāḥa ‘alaikum, wa ḥalā'ilu abnā'ikumul-lażīna min aṣlābikum, wa an tajma‘ū bainal-ukhtaini illā mā qad salaf(a), innallāha kāna gafūrar raḥīmā(n).
تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو، اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن و شو ہو چکا ہو ورنہ اگر (صرف نکاح ہوا ہو اور) تعلق زن و شو نہ ہوا ہو تو (ا نہیں چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کر لینے میں) تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے اور تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب سے ہوں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو، مگر جو پہلے ہو گیا سو ہو گیا، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے
📝 حاشیہ
١٥١) اس آیت کے شروع میں "ماؤں" سے مراد مائیں، دادیاں/نانیاں اور اوپر تک کی تمام اصول ہیں، جبکہ "بیٹیوں" سے مراد بیٹیاں، پوتیاں/نواسیاں اور نیچے تک کی تمام فروع ہیں۔ "تمہاری وہ سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری زیرِ پرورش ہیں" سے مراد، جمہور علماء کے نزدیک، وہ سوتیلی بیٹیاں بھی شامل ہیں جو زیرِ پرورش نہ ہوں۔