سورۃ النساء
وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَـَٔامُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ ٱلْأَنْعَـٰمِ وَلَـَٔامُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ ٱلشَّيْطَـٰنَ وَلِيًّا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا
Wa la'uḍillannahum wa la'umanniyannahum wa la'āmurannahum fa layubattikunna āżānal-an‘āmi wa la'āmurannahum fa layugayyirunna khalqallāh(i), wa may yattakhiżisy-syaiṭāna waliyyam min dūnillāhi faqad khasira khusrānam mubīnā(n).
میں انہیں بہکاؤں گا، میں انہیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا، میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں رد و بدل کریں گے" اس شیطان کوجس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سرپرست بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑ گیا
📝 حاشیہ
١٦٦) اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان واقعی انسانوں کو گمراہ کرے گا، اللہ تعالیٰ کے حلال کیے ہوئے مویشیوں کو حرام قرار دے کر یا اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ کو حلال ٹھہرا کر، جیسا کہ زمانہ جاہلیت کے عربوں کا بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام کے بارے میں عقیدہ تھا (سورۃ المائدہ ٥: ١٠٣ ملاحظہ کریں)۔ ١٦٧) اللہ کی تخلیق کو بدلنے کا مطلب جسمانی تبدیلی ہو سکتا ہے، جیسے جنس کی تبدیلی، یا انسان کے اندرونی وجود میں تبدیلی، جیسے دین اسلام کی فطرت کو بدل کر کسی اور مذہب کو اختیار کرنا۔