سورۃ آل عمران
قَدْ كَانَ لَكُمْ ءَايَةٌ فِى فِئَتَيْنِ ٱلْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَـٰتِلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ ٱلْعَيْنِ ۚ وَٱللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِۦ مَن يَشَآءُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُو۟لِى ٱلْأَبْصَـٰرِ
Qad kāna lakum āyatun fī fi'atainil taqatā, fi'atun tuqātilu fī sabīlillāhi wa ukhrā kāfiratuy yaraunahum miṡlaihim ra'yal-‘ain(i), wallāhu yu'ayyidu binaṣrihī may yasyā'(u), inna fī żālika la‘ibratal li'ulil-abṣār(i).
تمہارے لیے اُن دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا، جو (بدر میں) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا دیکھنے والے بچشم سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دو چند ہے مگر (نتیجے نے ثابت کر دیا کہ) اللہ اپنی فتح و نصرت سے جس کو چاہتا ہے، مدد دیتا ہے دیدۂ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے
📝 حاشیہ
٨٦) اس آیت میں جن دو گروہوں کے درمیان جنگ کا ذکر ہے، وہ ہجرت کے دوسرے سال مدینہ منورہ کے جنوب مغرب میں مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑی جانے والی "غزوہِ بدر" ہے۔