سورۃ آل عمران
وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ ٱللَّهُ وَعْدَهُۥٓ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَـٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَآ أَرَىٰكُم مَّا تُحِبُّونَ ۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ ۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ
Wa laqad ṣadaqakumullāhu wa‘dahū iż taḥussūnahum bi'iżnih(ī), ḥattā iżā fasyiltum wa tanāza‘tum fil-amri wa ‘aṣaitum mim ba‘di mā arākum mā tuḥibbūn(a), minkum may yurīdud-dun-yā wa minkum may yurīdul-ākhirah(ta), ṡumma ṣarafakum ‘anhum liyabtaliyakum, wa laqad ‘afā ‘ankum, wallāhu żū faḍlin ‘alal-mu'minīn(a).
اللہ نے (تائید و نصرت کا) جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اُس نے پورا کر دیا ابتدا میں اُس کے حکم سے تم ہی اُن کو قتل کر رہے تھے مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جونہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مال غنیمت) تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کر دیا کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے
📝 حاشیہ
١٢٥) نبی کے حکم میں اختلاف کا مطلب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اس حکم کی تعمیل نہ کرنا ہے جس میں آپ نے تیر اندازوں کے دستے کو ہدایت کی تھی کہ وہ ہر حال میں اپنے متعین کردہ مقام پر ڈٹے رہیں۔ ۱۲۶) یعنی فتح اور مالِ غنیمت۔ ۱۲۷) اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان انہیں شکست دینے میں کامیاب نہ ہو سکے۔