سورۃ آل عمران
فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا۟ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلْكَـٰذِبِينَ
Faman ḥājjaka fīhi mim ba‘di mā jā'aka minal-‘ilmi faqul ta‘ālau nad‘u abnā'anā wa abnā'akum wa nisā'anā wa nisā'akum wa anfusanā wa anfusakum, ṡumma nabtahil fanaj‘al la‘natallāhi ‘alal-kāżibīn(a).
یہ علم آ جانے کے بعد اب کوئی اس معاملہ میں تم سے جھگڑا کرے تو اے محمدؐ! اس سے کہو، "آؤ ہم اور تم خود بھی آ جائیں اور اپنے اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں اور خد ا سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اُس پر خدا کی لعنت ہو"
📝 حاشیہ
٩٤) "مباہلہ" سے مراد یہ ہے کہ جھگڑا کرنے والے دونوں فریق انتہائی خلوصِ دل سے اللہ کے حضور دعا کریں کہ وہ جھوٹے فریق پر اپنی لعنت بھیجے۔ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائی وفد کو مباہلہ کی دعوت دی، لیکن انہوں نے ایسا کرنے کی جرات نہ کی۔ یہ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اسلامی عقیدے کی سچائی کا ایک پختہ ثبوت ہے۔