سورۃ آل عمران
لَّا يَتَّخِذِ ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلْكَـٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۖ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ ٱللَّهِ فِى شَىْءٍ إِلَّآ أَن تَتَّقُوا۟ مِنْهُمْ تُقَىٰةً ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفْسَهُۥ ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلْمَصِيرُ
Lā yattakhiżil-mu'minūnal-kāfirīna auliyā'a min dūnil-mu'minīn(a), wa may yaf‘al żālika falaisa minallāhi fī syai'(in), illā an tattaqū minhum tuqāh(tan), wa yuḥażżirukumullāhu nafsah(ū), wa ilallāhil-maṣīr(u).
مومنین اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست ہرگز نہ بنائیں جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہاں یہ معاف ہے کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرز عمل اختیار کر جاؤ مگر اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے
📝 حاشیہ
٨٨) لفظ "اولیاء" لفظ "ولی" کی جمع ہے۔ لغوی اعتبار سے اس کا مطلب 'قریب' ہے، اسی لیے یہ 'قریبی دوست'، 'گہرا دوست'، 'وفادار ساتھی'، 'محبوب'، 'مددگار'، 'اتحادی'، 'محافظ'، 'پشتیبان' اور 'قائد (رہنما)' کے معنی ظاہر کرتا ہے۔ قرآن مجید میں لفظ "ولی" اور "اولیاء" ۴۱ مرتبہ دہرائے گئے ہیں، اور ان کے معانی آیت کے سیاق و سباق کے لحاظ سے مختلف ہیں۔