سورۃ آل عمران
يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ لِمَ تَلْبِسُونَ ٱلْحَقَّ بِٱلْبَـٰطِلِ وَتَكْتُمُونَ ٱلْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
Yā ahlal-kitābi lima talbisūnal-ḥaqqa bil-bāṭili wa taktumūnal-ḥaqqa wa antum ta‘lamūn.
اے اہل کتاب! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو؟
📝 حاشیہ
١٠٠) حق اور باطل کو خلط ملط کرنے (ملانے) سے مراد اللہ کی ان آیات کو، جو انبیاء کرام لے کر آئے، ان باطل تاویلات کے ساتھ ملانا ہے جو ان کے مذہبی رہنماؤں نے پیش کیں۔ ١٠١) حق کو چھپانے سے مراد خدا کے اس کلام کو پوشیدہ کرنا ہے جو انبیاء لائے تھے، جس میں توحید کی تعلیمات اور نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت موجود تھی۔