سورۃ آل عمران
۞ كُلُّ ٱلطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَٰٓءِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ ٱلتَّوْرَىٰةُ ۗ قُلْ فَأْتُوا۟ بِٱلتَّوْرَىٰةِ فَٱتْلُوهَآ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ
Kulluṭ-ṭa‘āmi kāna ḥillal libanī isrā'īla illā mā ḥarrama isrā'īlu ‘alā nafsihī min qabli an tunazzalat-taurāh(tu), qul fa'tū bit-taurāti fatlūhā in kuntum ṣādiqīn(a).
کھانے کی یہ ساری چیزیں (جو شریعت محمدیؐ میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں، البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنہیں توراۃ کے نازل کیے جانے سے پہلے اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کر لیا تھا ان سے کہو، اگر تم (ا پنے اعتراض میں) سچے ہو تو لاؤ توراۃ اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت
📝 حاشیہ
١٠٥) تورات کے نازل ہونے کے بعد، بطور سزا ان پر کچھ کھانے حرام کر دیے گئے تھے (دیکھیے سورہ النساء/۴: ۱۶۰ اور سورہ الانعام/۶: ۱۴۶)۔