سورۃ آل عمران

۞ وَمِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ مَنْ إِن تَأْمَنْهُ بِقِنطَارٍ يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيْكَ وَمِنْهُم مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لَّا يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيْكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَآئِمًا ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا۟ لَيْسَ عَلَيْنَا فِى ٱلْأُمِّيِّـۧنَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

Wa min ahlil-kitābi man in ta'manhu bi qinṭārin yu'addīhi ilaik(a), wa minhum man in ta'manhu bidīnāril lā yu'addīhi ilaika illā mā dumta ‘alaihi qā'imā(n), żālika bi'annahum qālū laisa ‘alainā fil-ummiyyīna sabīl(un), wa yaqūlūna ‘alallāhil-każiba wa hum ya‘lamūn(a).

اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کر دے گا، اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملہ میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا الّا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہو جاؤ اُن کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں، "امیوں (غیر یہودی لوگوں) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے" اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ہے آخر کیوں اُن سے باز پرس نہ ہوگی؟

📝 حاشیہ
١٠٣) لفظ "امی" کا مفہوم آیت نمبر 20 کے حاشیے (فٹ نوٹ) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو دھوکہ دے کر مال حاصل کر سکتے ہیں جو ان کے ہم مذہب نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک، اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے طریقے کی اجازت دی ہے۔ یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ دھوکہ دہی ایک ایسا عمل ہے جس سے دین میں سختی سے منع کیا گیا ہے۔

تمام آیات 200 آیات
آج ہی پڑھنا شروع کریں

قرآن پڑھنا اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنائیں۔ Quran Today آپ کو پریشانیوں کے بغیر پڑھنا جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے، ایک آسان، تیز، نجی اور آرام دہ تجربے کے ساتھ۔