سورۃ آل عمران
وَٱلَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا۟ فَـٰحِشَةً أَوْ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا۟ ٱللَّهَ فَٱسْتَغْفَرُوا۟ لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ ٱلذُّنُوبَ إِلَّا ٱللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا۟ عَلَىٰ مَا فَعَلُوا۟ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
Wal-lażīna iżā fa‘alū fāḥisyatan au ẓalamū anfusahum żakarullāha fastagfarū liżunūbihim, wa may yagfiruż-żunūba illallāh(u), wa lam yuṣirrū ‘alā mā fa‘alū wa hum ya‘lamūn(a).
اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہو جاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آ جاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو او ر وہ دیدہ و دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے
📝 حاشیہ
١١٩) "فحش کام" (فاحشہ) سے مراد وہ بڑا گناہ ہے جس کے برے اثرات اور نتائج صرف گناہ کرنے والے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ دوسروں پر بھی پڑتے ہیں، جیسے زنا اور سود۔ جہاں تک "اپنے نفس پر ظلم کرنے" کا تعلق ہے، تو اس سے مراد وہ گناہ ہیں جن کا نقصان صرف گناہ کرنے والے کی اپنی ذات کو پہنچتا ہے، خواہ وہ گناہ بڑا ہو یا چھوٹا۔