سورۃ آل عمران
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأْكُلُوا۟ ٱلرِّبَوٰٓا۟ أَضْعَـٰفًا مُّضَـٰعَفَةً ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
Yā ayyuhal-lażīna āmanū lā ta'kulur-ribā aḍ‘āfam muḍā‘afah(tan), wattaqullāha la‘allakum tufliḥūn(a).
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے
📝 حاشیہ
١١٨) اس آیت میں "ربا" (سود) سے مراد وہ قرض ہے جس کی مقررہ وقت پر ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں، مقروض کو مزید مہلت تو دے دی جاتی ہے لیکن اس کے بدلے اس سے واجب الادا رقم میں اضافے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ علماء کے نزدیک یہ "ربا النسیئہ" (ادھار کا سود) حرام ہے، خواہ یہ اضافی رقم کئی گنا (دو چند) نہ بھی ہو۔