سورۃ آل عمران
فَنَادَتْهُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَهُوَ قَآئِمٌ يُصَلِّى فِى ٱلْمِحْرَابِ أَنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
Fanādathul-malā'ikatu wa huwa qā'imuy yuṣallī fil-miḥrāb(i), annallāha yubasysyiruka biyaḥyā muṣaddiqam bikalimatim minallāhi wa sayyidaw wa ḥaṣūraw wa nabiyyam minaṣ-ṣāliḥīn(a).
جواب میں فرشتوں نے آواز دی، جب کہ وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، کہ "اللہ تجھے یحییٰؑ کی خوش خبری دیتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ایک فرمان کی تصدیق کرنے و الا بن کر آئے گا اس میں سرداری و بزرگی کی شان ہوگی کمال درجہ کا ضابط ہوگا نبوت سے سرفراز ہوگا اور صالحین میں شمار کیا جائے گا"
📝 حاشیہ
٩٠) ایک ایسے نبی کی آمد کی تصدیق کرنا جو بغیر باپ کے، صرف لفظ "کُن" (ہو جا!) سے پیدا کیے گئے، یعنی نبی عیسیٰ علیہ السلام۔