سورۃ آل عمران
۞ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُۥنَ عَلَىٰٓ أَحَدٍ وَٱلرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِىٓ أُخْرَىٰكُمْ فَأَثَـٰبَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا۟ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَآ أَصَـٰبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ
Iż tuṣ‘idūna wa lā talwūna ‘alā aḥadiw war-rasūlu yad‘ūkum fī ukhrākum fa aṡābakum gammam bigammil likailā taḥzanū ‘alā mā fātakum wa lā mā aṣābakum, wallāhu khabīrum bimā taṣna‘ūn(a).
یاد کرو جب تم بھاگے چلے جا رہے تھے، کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمہیں نہ تھا، اور رسولؐ تمہارے پیچھے تم کو پکار رہا تھا اُس وقت تمہاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دیے تاکہ آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے
📝 حاشیہ
١٢٨) مسلمانوں کا غم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حکم کی نافرمانی کی وجہ سے تھا، جس کا انجام جنگِ اُحد میں شکست کی صورت میں نکلا۔