سورۃ آل عمران
ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنۢ بَعْدِ ٱلْغَمِّ أَمَنَةً نُّعَاسًا يَغْشَىٰ طَآئِفَةً مِّنكُمْ ۖ وَطَآئِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِٱللَّهِ غَيْرَ ٱلْحَقِّ ظَنَّ ٱلْجَـٰهِلِيَّةِ ۖ يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ ٱلْأَمْرِ مِن شَىْءٍ ۗ قُلْ إِنَّ ٱلْأَمْرَ كُلَّهُۥ لِلَّهِ ۗ يُخْفُونَ فِىٓ أَنفُسِهِم مَّا لَا يُبْدُونَ لَكَ ۖ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ ٱلْأَمْرِ شَىْءٌ مَّا قُتِلْنَا هَـٰهُنَا ۗ قُل لَّوْ كُنتُمْ فِى بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ ٱلَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ ۖ وَلِيَبْتَلِىَ ٱللَّهُ مَا فِى صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِى قُلُوبِكُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
Ṡumma anzala ‘alaikum mim ba‘dil-gammi amanatan nu‘āsay yagsyā ṭā'ifatam minkum, wa ṭā'ifatun qad ahammathum anfusuhum yaẓunnūna billāhi gairal-ḥaqqi ẓanal-jāhiliyyah(ti), yaqūlūna hal lanā minal-amri min syai'(in), qul innal-amra kullahū lillāh(i), yukhfūna fī anfusihim mā lā yubdūna lak(a), yaqūlūna lau kāna lanā minal-amri syai'um mā qutilnā hāhunā, qul lau kuntum fī buyūtikum labarazal-lażīna kutiba ‘alaihimul-qatlu ilā maḍāji‘ihim, wa liyabtaliyallāhu mā fī ṣudūrikum wa liyumaḥḥiṣa mā fī qulūbikum, wallāhu ‘alīmum biżātiṣ-ṣudūr(i).
اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کر دی کہ وہ اونگھنے لگے مگر ایک دوسرا گروہ، جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنے مفاد ہی کی تھی، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلاف حق تھے یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ، "اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے؟" ان سے کہو "(کسی کا کوئی حصہ نہیں) اِس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں" دراصل یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں اُسے تم پر ظاہر نہیں کرتے ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ، "اگر (قیادت کے) اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے" ان سے کہہ دو کہ، "اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے" اور یہ معاملہ جو پیش آیا، یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اُسے آزما لے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اُسے چھانٹ دے، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے
📝 حاشیہ
١٢٩) یعنی وہ مسلمان جن کا ایمان پختہ ہے۔ ١٣٠) یعنی وہ مسلمان جو ابھی تک شک و تذبذب کا شکار ہیں۔ ١٣١) جاہلیت کے گمان سے مراد یہ خیال کرنا ہے کہ اگر نبی محمد ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہوتے تو وہ جنگ میں کبھی شکست نہ کھاتے اور نہ ہی قتل ہوتے۔