سورۃ آل عمران
هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ مِنْهُ ءَايَـٰتٌ مُّحْكَمَـٰتٌ هُنَّ أُمُّ ٱلْكِتَـٰبِ وَأُخَرُ مُتَشَـٰبِهَـٰتٌ ۖ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَـٰبَهَ مِنْهُ ٱبْتِغَآءَ ٱلْفِتْنَةِ وَٱبْتِغَآءَ تَأْوِيلِهِۦ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُۥٓ إِلَّا ٱللَّهُ ۗ وَٱلرَّٰسِخُونَ فِى ٱلْعِلْمِ يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِۦ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ
Huwal-lażī anzala ‘alaikal-kitāba minhu āyātum muḥkamātun hunna ummul-kitābi wa ukharu mutasyābihāt(un), fa'ammal-lażīna fī qulūbihim zaigun fayattabi‘ūna mā tasyābaha minhubtigā'al-fitnati wabtigā'a ta'wīlih(ī), wa mā ya‘lamu ta'wīlahū illallāh(u), war-rāsikhūna fil-‘ilmi yaqūlūna āmannā bih(ī), kullum min ‘indi rabbinā, wa mā yażżakkaru illā ulul-albāb(i).
وہی خدا ہے، جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے اِس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں: ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات جن لوگوں کے دلو ں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور اُن کو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا بخلا ف اِس کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ "ہمارا اُن پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں" اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانشمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں
📝 حاشیہ
٨٤) آیاتِ محکمات وہ آیات ہیں جن کے معنی بالکل واضح، حتمی اور آسانی سے سمجھ آنے والے ہیں۔ ٨٥) آیاتِ متشابہات وہ آیات ہیں جن میں کئی معنی کا احتمال ہوتا ہے، جنہیں سمجھنا مشکل ہوتا ہے، یا جن کی حقیقت صرف اللہ ہی جانتا ہے۔