سورۃ آل عمران
فِيهِ ءَايَـٰتٌۢ بَيِّنَـٰتٌ مَّقَامُ إِبْرَٰهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُۥ كَانَ ءَامِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلْبَيْتِ مَنِ ٱسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ عَنِ ٱلْعَـٰلَمِينَ
Fīhi āyātum bayyinātum maqāmu ibrāhīm(a), wa man dakhalahū kāna āminā(n), wa lillāhi ‘alan-nāsi ḥijjul-baiti manistaṭā‘a ilaihi sabīlā(n), wa man kafara fa innallāha ganiyyun ‘anil-‘ālamīn(a).
اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، ابراہیمؑ کا مقام عبادت ہے، اوراس کا حال یہ ہے کہ جو اِس میں داخل ہوا مامون ہو گیا لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے، اور جو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہو جانا چاہیے کہ اللہ تمام د نیا والوں سے بے نیاز ہے
📝 حاشیہ
١٠٨) سورہ البقرہ/۲: ۱۲۵ کا حاشیہ (فٹ نوٹ) دیکھیں۔ ١٠٩) استطاعت (حج کی طاقت رکھنے) کا معیار یہ ہے کہ انسان زادِ راہ (خرچہ) اور سواری کا انتظام کرنے کے قابل ہو، جسمانی طور پر تندرست ہو، راستہ پرامن ہو، اور پیچھے رہ جانے والے اہل و عیال کے نان و نفقہ (گزر بسر) کا اطمینان ہو۔