سورۃ البقرہ
قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِى ٱلسَّمَآءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَىٰهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُۥ ۗ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ
Qad narā taqallubaka wajhika fis-samā'(i), fa lanuwalliyannaka qiblatan tarḍāhā, fawalli wajhaka syaṭral-masjidil-ḥarām(i), wa ḥaiṡumā kuntum fawallū wujūhakum syaṭrah(ū), wa innal-lażīna ūtul-kitāba laya‘lamūna annahul-ḥaqqu mir rabbihim, wa mallāhu bigāfilin ‘ammā ya‘malūn(a).
یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو مسجد حرام کی طرف رُخ پھیر دو اب جہاں کہیں تم ہو، اُسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو یہ لوگ جںہیں کتاب دی گئی تھی، خو ب جانتے ہیں کہ (تحویل قبلہ کا) یہ حکم ان کے رب ہی کی طرف سے ہے اور بر حق ہے، مگرا س کے باوجود جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ اس سے غافل نہیں ہے
📝 حاشیہ
٤١) جن لوگوں کو کتاب دی گئی ان سے مراد یہودی اپنی کتاب تورات کے ساتھ اور عیسائی اپنی کتاب انجیل کے ساتھ ہیں (دیکھیے سورہ البقرہ/2: 105)۔