سورۃ البقرہ
وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَٱعْتَزِلُوا۟ ٱلنِّسَآءَ فِى ٱلْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ ٱللَّهُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلتَّوَّٰبِينَ وَيُحِبُّ ٱلْمُتَطَهِّرِينَ
Wa yas'alūnaka ‘anil-maḥīḍ(i), qul huwa ażā(n), fa‘tazilun-nisā'a fil-maḥīḍ(i), wa lā taqrabūhunna ḥattā yaṭhurn(a), fa'iżā taṭahharna fa'tūhunna min ḥaiṡu amarakumullāh(u), innallāha yuḥibbut-tawwābīna wa yuḥibbul-mutaṭahhirīn(a).
پوچھتے ہیں: حیض کا کیا حکم ہے؟ کہو: وہ ایک گندگی کی حالت ہے اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں پھر جب وہ پاک ہو جائیں، تو اُن کے پاس جاؤ اُس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں
📝 حاشیہ
٦٥) "حیض" (ماہواری) وہ خون ہے جو عورت کے رحم میں باروری (fertilization) کے لیے تیار ہونے والے بافتوں (tissues) کے ساتھ باہر نکلتا ہے۔ اس کا اخراج ایک خاص مدت کے ساتھ ہوتا ہے، جو رحم میں بیج (egg cell) کے اخراج کی مدت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس حالت کو ناپاکی (الودگی) سمجھا جاتا ہے اور یہ عورت کو شرعی طور پر ناپاک کر دیتی ہے، جس میں اپنے شوہر سے ہمبستری کے لیے ناپاک ہونا بھی شامل ہے۔