سورۃ البقرہ
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا۟ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُۥ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوٓا۟ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ هُزُوًا ۚ وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَآ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلْكِتَـٰبِ وَٱلْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِۦ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
Wa iżā ṭallaqtumun-nisā'a fabalagna ajalahunna fa'amsikūhunna bima‘rūfin au sarriḥūhunna bima‘rūf(in), wa lā tumsikūhunna ḍirāral lita‘tadū, wa may yaf‘al żālika faqad ẓalama nafasah(ū), wa lā tattakhiżū āyātillāhi huzuwaw ważkurū ni‘matallāhi ‘alaikum wa mā anzala ‘alaikum minal-kitābi wal-ḥikmati ya‘iẓukum bih(ī), wattaqullāha wa‘lamū annallāha bikulli syai'in ‘alīm(un).
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آ جائے، تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا یہ زیادتی ہوگی اور جو ایسا کرے گا، وہ در حقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اُس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے
📝 حاشیہ
٦٩) "عدت" سے مراد وہ مدتِ انتظار ہے (جس کے دوران نکاح کرنا جائز نہیں) جو عورت طلاق یا شوہر کے انتقال کی وجہ سے گزارتی ہے۔