سورۃ البقرہ
فَأَزَلَّهُمَا ٱلشَّيْطَـٰنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَـٰعٌ إِلَىٰ حِينٍ
Fa'azallahumasy-syaiṭānu ‘anhā fa akhrajahumā mimmā kānā fīh(i), wa qulnahbiṭū ba‘ḍukum liba‘ḍin ‘aduww(un), wa lakum fil-arḍi mustaqarruw wa matā‘un ilā ḥīn(in).
آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اُس حالت سے نکلوا کر چھوڑا، جس میں وہ تھے ہم نے حکم دیا کہ، "اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین ٹھیرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے"
📝 حاشیہ
١٧) حضرت آدم علیہ السلام اور حوا نے اس ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا جس کی وجہ سے اللہ سبحانہ و تعالی نے انہیں جنت سے نکال دیا اور دنیا میں اتار دیا۔