سورۃ البقرہ
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَـٰقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُم بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلْعِجْلَ فَتُوبُوٓا۟ إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَٱقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
Wa iż qāla mūsā liqaumihī yā qaumi innakum ẓalamtum anfusakum bittikhāżikumul- ‘ijla fatūbū ilā bāri'ikum faqtulū anfusakum, żālikum khairul lakum ‘inda bāri'ikum, fatāba ‘alaikum, innahū huwat-tawwābur-raḥīm(u).
یاد کرو جب موسیٰؑ (یہ نعمت لیتے ہوئے پلٹا، تو اُس) نے اپنی قوم سے کہا کہ "لوگو، تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے اوپر سخت ظلم کیا ہے، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو، اسی میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے" اُس وقت تمہارے خالق نے تمہاری توبہ قبول کر لی کہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
📝 حاشیہ
٢٧) بعض مفسرین کے مطابق اس آیت میں اپنی جانوں کو قتل کرنے کے حکم سے مراد یہ ہے کہ جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی تھی وہ پوجا کرنے والوں کو قتل کریں۔ تاہم، اس حکم کا یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ بچھڑے کی پوجا کرنے والے اللہ کے حضور توبہ کے طور پر ایک دوسرے کو قتل کریں یا اپنی جانیں لے لیں۔