سورۃ البقرہ
۞ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَسْتَحْىِۦٓ أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَيَقُولُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَـٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِۦ كَثِيرًا وَيَهْدِى بِهِۦ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِۦٓ إِلَّا ٱلْفَـٰسِقِينَ
Innallāha lā yastaḥyī ay yaḍriba maṡalam mā ba‘ūḍatan famā fauqahā, fa'ammal- lażīna āmanū faya‘lamūna annahul-ḥaqqu mir rabbihim, wa ammal-lażīna kafarū fayaqūlūna māżā arādallāhu bihāżā maṡalā(n), yuḍillu bihī kaṡīraw wa yahdī bihī kaṡīrā(n), wa mā yuḍillu bihī illal-fāsiqīn(a).
ہاں، اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں، وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے رب ہی کی طرف سے آیا ہے، اور جو ماننے والے نہیں ہیں، وہ انہیں سن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار؟ اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہ راست دکھا دیتا ہے اور گمراہی میں وہ انہی کو مبتلا کرتا ہے، جو فاسق ہیں
📝 حاشیہ
٩) وہ چھوٹے جاندار جنہیں کمزور سمجھا جاتا ہے، جیسے مچھر، چیونٹی، شہد کی مکھی، مکڑی یا دیگر، درحقیقت انسانوں کے لیے سبق آموز حکمتوں سے بھرپور ہیں۔ ١٠) کوئی بھی شخص اپنے انکار اور اللہ سبحانہ و تعالی کی ہدایات کو نہ سمجھنے کی خواہش کے باعث گمراہ ہوتا ہے۔ اس آیت میں وضاحت کی گئی ہے کہ انہوں نے انکار کیا اور یہ سمجھنے سے باز رہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے مچھر کی مثال کیوں بیان فرمائی، جس کے نتیجے میں وہ گمراہ ہو گئے۔ ١١) فاسق وہ شخص ہے جو دین کے احکامات کی خلاف ورزی کرے، خواہ قول سے ہو یا فعل سے۔