سورۃ البقرہ
أَوْ كَٱلَّذِى مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْىِۦ هَـٰذِهِ ٱللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ ٱللَّهُ مِا۟ئَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُۥ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِا۟ئَةَ عَامٍ فَٱنظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَٱنظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ ءَايَةً لِّلنَّاسِ ۖ وَٱنظُرْ إِلَى ٱلْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
Au kal-lażī marra ‘alā qaryatiw wa hiya khāwiyatun ‘alā ‘urūsyihā, qāla annā yuḥyī hāżihillāhu ba‘da mautihā, fa'amātahullāhu mi'ata ‘āmin ṡumma ba‘aṡah(ū), qāla kam labiṡt(a), qāla labiṡtu yauman au ba‘ḍa yaum(in), qāla bal labiṡta mi'ata ‘āmin fanẓur ilā ṭa‘āmika wa syarābika lam yatasannah, wanẓur ilā ḥimārik(a), wa linaj‘alaka āyatal lin-nāsi wanẓur ilal-‘iẓāmi kaifa nunsyizuhā ṡumma naksūhā laḥmā(n), falammā tabayyana lah(ū), qāla a‘lamu annallāha ‘alā kulli syai'in qadīr(un).
یا پھر مثال کے طور پر اُس شخص کو دیکھو، جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا، جو اپنی چھتوں پر اوندھی گری پڑی تھی اُس نے کہا: "یہ آبادی، جو ہلاک ہو چکی ہے، اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا؟" اس پر اللہ نے اس کی روح قبض کر لی اور وہ سوبرس تک مُردہ پڑا رہا پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا: "بتاؤ، کتنی مدت پڑے رہے ہو؟" اُس نے کہا: "ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں گا" فرمایا: "تم پر سو برس اِسی حالت میں گزر چکے ہیں اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیر نہیں آیا ہے دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو (کہ اِس کا پنجر تک بوسید ہ ہو رہا ہے) اور یہ ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اِس پنجر کو ہم کس طرح اٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں" اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایاں ہو گئی، تو اس نے کہا: "میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے"
📝 حاشیہ
٨٠) سائنس اس بات کی وضاحت کرنے سے قاصر ہے کہ کیسے ایک شخص کو سو سال کے لیے سلایا گیا (موت دی گئی) اور اس کا کھانا بالکل اسی طرح صحیح سلامت رہا، جبکہ اس کا گدھا ہڈیوں کا ڈھیر بن چکا تھا، پھر ان ہڈیوں کو جمع کیا گیا اور اللہ سبحانہ و تعالی کی قدرت سے وہ دوبارہ زندہ ہو گیا۔