سورۃ البقرہ
وَإِذْ وَٰعَدْنَا مُوسَىٰٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ ٱتَّخَذْتُمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُمْ ظَـٰلِمُونَ
Wa iż wā‘adnā mūsā arba‘īna lailatan ṡummattakhażtumul-‘ijla mim ba‘dihī wa antum ẓālimūn(a).
یاد کرو، جب ہم نے موسیٰؑ کو چالیس شبانہ روز کی قرارداد پر بلایا، تو اس کے پیچھے تم بچھڑے کو اپنا معبود بنا بیٹھے اُس وقت تم نے بڑی زیادتی کی تھی
📝 حاشیہ
٢٥) اللہ سبحانہ و تعالی نے وعدہ فرمایا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مناجات (اور تورات حاصل کرنے) کی مدت چالیس راتیں ہوگی۔ لیکن ان کی قوم نے انتظار کرنے میں صبر سے کام نہ لیا اور انہوں نے بچھڑے کے اس بت کی پوجا شروع کر دی جسے سامری نے بنایا تھا۔