سورۃ البقرہ
ٱلشَّهْرُ ٱلْحَرَامُ بِٱلشَّهْرِ ٱلْحَرَامِ وَٱلْحُرُمَـٰتُ قِصَاصٌ ۚ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَٱعْتَدُوا۟ عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا ٱعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ
Asy-syahrul-ḥarāmu bisy-syahril-ḥarāmi wal-ḥurumātu qiṣāṣ(un), famani‘tadā ‘alaikum fa‘tadū ‘alaihi bimiṡli ma‘tadā ‘alaikum, wattaqullāha wa‘lamū annallāha ma‘al-muttaqīn(a).
ماہ حرام کا بدلہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا لہٰذا جوتم پر دست درازی کرے، تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ انہیں لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں
📝 حاشیہ
٥٤) اس سے مراد یہ ہے کہ اگر حرمت والے مہینے میں مسلمانوں پر حملہ کیا جائے، تو مسلمانوں کو اسی مہینے میں بھی جوابی حملہ کرنے کی اجازت ہے۔ ٥٥) جس چیز کا احترام لازم ہے (حرمات) اس سے مراد حرمت والے مہینے، یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم، اور رجب؛ حدودِ حرم (مکہ مکرمہ)؛ اور احرام کی حالت ہو سکتی ہے۔