سورۃ البقرہ
وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ رَبِّ أَرِنِى كَيْفَ تُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِى ۖ قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ ٱلطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ ٱجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ٱدْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا ۚ وَٱعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
Wa iż qāla ibrāhīmu rabbi arinī kaifa tuḥyil-mautā, qāla awalam tu'min, qāla balā wa lākil liyaṭma'inna qalbī, qāla fakhuż arba‘atam minaṭ-ṭairi faṣurhunna ilaika ṡummaj‘al ‘alā kulli jabalim minhunna juz'an ṡummad‘uhunna ya'tīnaka sa‘yā(n), wa‘lam annallāha ‘azīzun ḥakīm(un).
اور وہ واقعہ بھی پیش نظر رہے، جب ابراہیمؑ نے کہا تھا کہ: "میرے مالک، مجھے دکھا دے، تو مُردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے" فرمایا: "کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟" اُس نے عرض کیا "ایمان تو رکھتا ہوں، مگر دل کا اطمینان درکار ہے" فرمایا: "اچھا تو چار پرندے لے اور ان کو اپنے سے مانوس کر لے پھر ان کا ایک ایک جز ایک ایک پہاڑ پر رکھ دے پھر ان کو پکار، وہ تیرے پاس دوڑے چلے آئیں گے خوب جان لے کہ اللہ نہایت با اقتدار اور حکیم ہے"
📝 حاشیہ
٨١) سائنس اس بات کی وضاحت نہیں کر سکتی کہ کیسے پرندوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ان کے جسم کے حصوں کو دور دراز مقامات پر بکھیر دیا گیا، اور پھر اللہ سبحانہ و تعالی کی قدرت سے وہ دوبارہ زندہ ہو گئے۔