سورۃ البقرہ
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلنَّصَـٰرَىٰ وَٱلصَّـٰبِـِٔينَ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ وَعَمِلَ صَـٰلِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
Innal-lażīna āmanū wal-lażīna hādū wan-naṣārā waṣ-ṣābi'īna man āmana billāhi wal- yaumil-ākhiri wa ‘amila ṣāliḥan fa lahum ajruhum ‘inda rabbihim, wa lā khaufun ‘alaihim wa lā hum yaḥzanūn(a).
یقین جانو کہ نبی عربی کو ماننے والے ہوں یا یہودی، عیسائی ہوں یا صابی، جو بھی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا، اُس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے اور اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے
📝 حاشیہ
٢٩) صابیین پچھلی امتوں میں سے وہ لوگ تھے جو خدائے واحد پر ایمان رکھتے تھے، لیکن کسی خاص مذہب کے پیروکار نہیں تھے۔ ٣٠) یہ آیت اپنے اپنے زمانے کی ہر امت کے لیے ایک عام اصول کا بیان ہے۔ مثال کے طور پر، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں یہودی امت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں عیسائی (ناصری) امت۔