سورۃ البقرہ
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّى جَاعِلٌ فِى ٱلْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوٓا۟ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ ٱلدِّمَآءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
Wa iż qāla rabbuka lil-malā'ikati innī jā‘ilun fil-arḍi khalīfah(tan), qālū ataj‘alu fīhā may yufsidu fīhā wa yasfikud-dimā'(a), wa naḥnu nusabbiḥu biḥamdika wa nuqaddisu lak(a), qāla innī a‘lamu mā lā ta‘lamūn(a).
پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ "میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں" انہوں نے عرض کیا: "کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقر ر کرنے والے ہیں، جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گا آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں" فرمایا: "میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے"
📝 حاشیہ
١٣) قرآن مجید میں لفظ "خلیفہ" کے معنی 'نائب/جانشین'، 'رہنما'، 'حکمران' یا 'کائنات کا انتظام سنبھالنے والے' کے ہیں۔