سورۃ البقرہ
أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فِيهِ ظُلُمَـٰتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَـٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِم مِّنَ ٱلصَّوَٰعِقِ حَذَرَ ٱلْمَوْتِ ۚ وَٱللَّهُ مُحِيطٌۢ بِٱلْكَـٰفِرِينَ
Au kaṣayyibim minas-samā'i fīhi ẓulumātuw wa ra‘duw wa barq(un), yaj‘alūna aṣābi‘ahum fī āżānihim minaṣ-ṣawā‘iqi ḥażaral-maut(i), wallāhu muḥīṭum bil- kāfirīn(a).
یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک چمک بھی ہے، یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھو نسے لیتے ہیں اور اللہ اِن منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے
📝 حاشیہ
٨) اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی کا علم اور اس کی قدرت کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔