سورۃ البقرہ

وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّآ أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَا۟ ٱلَّذِى بِيَدِهِۦ عُقْدَةُ ٱلنِّكَاحِ ۚ وَأَن تَعْفُوٓا۟ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۚ وَلَا تَنسَوُا۟ ٱلْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

Wa in ṭallaqtumūhunna min qabli an tamassūhunna wa qad faraḍtum lahunna farīḍatan faniṣfu mā faraḍtum illā ay ya‘fūna au ya‘fuwal-lażī biyadihī ‘uqdatun-nikāḥ(i), wa an ta‘fū aqrabu lit-taqwā, wa lā tansawul-faḍla bainakum, innallāha bimā ta‘malūna baṣīr(un).

اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہے، لیکن مہر مقرر کیا جا چکا ہو، تو اس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے (اور مہر نہ لے) یا وہ مرد، جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے، نرمی سے کام لے (اور پورا مہر دیدے)، اور تم (یعنی مرد) نرمی سے کام لو، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے

📝 حاشیہ
٧٤) "جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے" سے مراد شوہر یا ولی (سرپرست) ہے۔ اگر مہر (کا نصف حصہ) معاف کرنے والا ولی ہو، تو شوہر پر سے نصف مہر ادا کرنے کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ اور اگر شوہر معاف کرے—یعنی وہ طے شدہ پورا مہر ادا کرنے کا التزام کر لے—تو اسے پورا مہر ادا کرنا ہوگا۔ تاہم، جو ولی ایسا کرنے کا مجاز ہے وہ صرف "ولیِ مجبر" ہے، یعنی وہ سرپرست جسے بکارہ (کنواری لڑکی) کا نکاح (اس کی مصلحت کے تحت) کرانے کا حق حاصل ہو، جیسے سگا باپ یا دادا۔

تمام آیات 286 آیات
آج ہی پڑھنا شروع کریں

قرآن پڑھنا اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنائیں۔ Quran Today آپ کو پریشانیوں کے بغیر پڑھنا جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے، ایک آسان، تیز، نجی اور آرام دہ تجربے کے ساتھ۔