سورۃ البقرہ
وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَٱلْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ ٱلْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَـٰتِلُوهُمْ عِندَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَـٰتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَـٰتَلُوكُمْ فَٱقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْكَـٰفِرِينَ
Waqtulūhum ḥaiṡu ṡaqiftumūhum wa akhrijūhum min ḥaiṡu akhrajūkum wal-fitnatu asyaddu minal-qatl(i), wa lā tuqātilūhum ‘indal-masjidil-ḥarāmi ḥattā yuqātilūkum fīh(i), fa'in qātalūkum faqtulūhum, każālika jazā'ul-kāfirīn(a).
ان سے لڑو جہاں بھی تمہارا اُن سے مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے، اس لیے کہ قتل اگرچہ برا ہے، مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی نہ لڑو، مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چُوکیں، تو تم بھی بے تکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے
📝 حاشیہ
٥٣) اس آیت میں "فتنہ" سے مراد ایسے اعمال ہیں جو افراتفری اور فساد کا باعث بنیں، جیسے لوگوں کو ان کے وطن سے نکالنا، مال و اسباب لوٹنا، دوسروں کو تکلیف پہنچانا، لوگوں کو اللہ سبحانہ و تعالی کے راستے سے روکنا، یا شرک کا ارتکاب کرنا (دیکھیے سورہ البقرہ/2: 102 کا حاشیہ)۔