سورۃ البقرہ
۞ يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِىَ مَوَٰقِيتُ لِلنَّاسِ وَٱلْحَجِّ ۗ وَلَيْسَ ٱلْبِرُّ بِأَن تَأْتُوا۟ ٱلْبُيُوتَ مِن ظُهُورِهَا وَلَـٰكِنَّ ٱلْبِرَّ مَنِ ٱتَّقَىٰ ۗ وَأْتُوا۟ ٱلْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَٰبِهَا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
Yas'alūnaka ‘anil-ahillah(ti), qul hiya mawāqītu lin-nāsi wal-ḥajj(i), wa laisal-birru bi'an ta'tul-buyūta min ẓuhūrihā wa lākinnal-birra manittaqā, wa'tul-buyūta min abwābihā, wattaqullāha la‘allakum tufliḥūn(a).
لوگ تم سے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں کہو: یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کی تعین کی اور حج کی علامتیں ہیں نیز ان سے کہو: یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف داخل ہوتے ہو نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو البتہ اللہ سے ڈرتے رہو شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے
📝 حاشیہ
٥٢) ہلال (نیا چاند) مہینے کے بدلنے کی ایک قطعی اور واضح دلیل ہے۔ مہینے کے آخر میں صبح کے وقت چاند کا ہلال کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح باریک دکھائی دینے کے بعد (سورہ یٰسین/36: 39)، اگلی رات چاند "مر" جاتا ہے (بالکل نظر نہیں آتا)، جس کے بعد مغرب کے فوراً بعد ایک باریک ہلال نمودار ہوتا ہے۔ یہی نئے مہینے کا آغاز ہوتا ہے جو عبادات کے اوقات کے حساب کتاب کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسے رمضان کے روزے اور حج۔