سورۃ البقرہ
صِبْغَةَ ٱللَّهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ ٱللَّهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُۥ عَـٰبِدُونَ
Ṣibgatallāh(i), wa man aḥsanu minallāhi ṣibgataw wa naḥnu lahū ‘ābidūn(a).
کہو: "اللہ کا رنگ اختیار کرو اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟ اور ہم اُسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں"
📝 حاشیہ
٣٩) "صبغتہ اللہ" کے معنی 'اللہ کا رنگ' ہیں۔ اس سے مراد اللہ سبحانہ و تعالی پر ایسا ایمان لانا ہے جس میں شرک کی کوئی آمیزش نہ ہو۔ یہ اصطلاح اس لیے استعمال کی گئی ہے کیونکہ ایمان دل میں اس طرح رچ بس جاتا ہے جیسے رنگے ہوئے کپڑے میں رنگ یکجا ہو جاتا ہے، اور اس رنگ کا اثر کپڑے پر بالکل اسی طرح نمایاں ہوتا ہے جیسے ایمان کا اثر ایک مومن کی ذات سے ظاہر ہوتا ہے۔