سورۃ البقرہ

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقُولُوا۟ رَٰعِنَا وَقُولُوا۟ ٱنظُرْنَا وَٱسْمَعُوا۟ ۗ وَلِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ

Yā ayyuhal-lażīna āmanū lā taqūlū rā‘inā wa qūlunẓurnā wasma‘ū wa lil-kāfirīna ‘ażābun alīm(un).

اے لوگو جو ایمان لائے ہو: رَاعِناَ نہ کہا کرو، بلکہ اُنظرنَا کہو اور توجہ سے بات کو سنو، یہ کافر تو عذاب الیم کے مستحق ہیں

📝 حاشیہ
٣٣) "راعنا" کے معنی ہیں 'ہماری رعایت کیجیے' (ہماری طرف توجہ فرمائیے)۔ لیکن یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے کے لیے اس لفظ کو زبان مروڑ کر بولتے تھے جس سے یہ "رعونت" جیسا سنائی دیتا تھا، جس کے معنی 'سخت بے وقوف' کے ہیں۔ اسی لیے اللہ سبحانہ و تعالی نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ "راعنا" کے بجائے "انظرنا" کا لفظ استعمال کریں کیونکہ ان دونوں کے بنیادی معنی ایک ہی ہیں۔

تمام آیات 286 آیات
آج ہی پڑھنا شروع کریں

قرآن پڑھنا اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنائیں۔ Quran Today آپ کو پریشانیوں کے بغیر پڑھنا جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے، ایک آسان، تیز، نجی اور آرام دہ تجربے کے ساتھ۔