سورۃ البقرہ
وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ ٱلْبَحْرَ فَأَنجَيْنَـٰكُمْ وَأَغْرَقْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
Wa iż faraqnā bikumul-baḥra fa'anjainākum wa agraqnā āla fir‘auna wa antum tanẓurūn(a).
یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے سمندر پھاڑ کر تمہارے لیے راستہ بنایا، پھر اس میں سے تمہیں بخیریت گزروا دیا، پھر وہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعونوں کو غرقاب کیا
📝 حاشیہ
٢٤) اللہ سبحانہ و تعالی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سمندر کے پھٹ جانے کے ذریعے پار گزرنے کا راستہ فراہم کر کے معجزہ عطا فرمایا۔ اس کے میکانزم کی کوئی حتمی سائنسی وضاحت موجود نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم نے خلیج کے ایک تنگ راستے کو عین اس وقت پار کیا ہو جب چودھویں یا نئے چاند کی وجہ سے سمندر میں زیادہ سے زیادہ اتار (جزر) آیا ہو، جس سے گزرنے کے لیے خشک زمین نمودار ہو گئی۔ تقریباً 6 گھنٹے بعد فرعون کے لشکر نے ان کا پیچھا کیا۔ جب وہ درمیان میں پہنچے تو سمندر میں چڑھاؤ (مد) شروع ہو گیا اور ان سب کو غرق کر دیا۔