سورۃ البقرہ

فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

Faman khāfa mim mūṣin janafan au iṡman fa aṣlaḥa bainahum falā iṡma ‘alaih(i), innallāha gafūrur raḥīm(un).

البتہ جس کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے، اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

📝 حاشیہ
٥٠) یہاں صلح کرانے (اصلاح) سے مراد وصیت کرنے والے کو یہ ہدایت کرنا ہے کہ وہ دینی احکام کے مطابق اپنی وصیت میں عدل و انصاف سے کام لے۔

تمام آیات 286 آیات
آج ہی پڑھنا شروع کریں

قرآن پڑھنا اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنائیں۔ Quran Today آپ کو پریشانیوں کے بغیر پڑھنا جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے، ایک آسان، تیز، نجی اور آرام دہ تجربے کے ساتھ۔