سورۃ البقرہ
لَّا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا۟ لَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى ٱلْمُوسِعِ قَدَرُهُۥ وَعَلَى ٱلْمُقْتِرِ قَدَرُهُۥ مَتَـٰعًۢا بِٱلْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلْمُحْسِنِينَ
Lā junāḥa ‘alaikum in ṭallaqtumun-nisā'a mā lam tamassūhunna au tafriḍū lahunna farīḍah(tan), wa matti‘ūhunna ‘alal-mūsi‘i qadaruhū wa ‘alal-muqtiri qadaruhū matā‘am bil-ma‘rūf(i), ḥaqqan ‘alal-muḥsinīn(a).
تم پر کچھ گنا ہ نہیں، اگر اپنی تم عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو اس صورت میں اُنہیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہیے خوش حال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے یہ حق ہے نیک آدمیوں پر
📝 حاشیہ
٧٣) یہاں "متعہ" (متعہ طلاق) سے مراد وہ تحفہ یا مالی فائدہ ہے جو شوہر اپنی طلاق یافتہ بیوی کا دل بہلانے اور اس کی دلجوئی کے لیے دیتا ہے، اور یہ اس واجب نفقہ (خرچہ) کے علاوہ ہوتا ہے جو اسے اپنی استطاعت اور مالی حیثیت کے مطابق ادا کرنا لازم ہے۔