سورۃ البقرہ
وَقُلْنَا يَـٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
Wa qulnā yā ādamuskun anta wa zaujukal-jannata wa kulā minhā ragadan ḥaiṡu syi'tumā, wa lā taqrabā hāżihisy-syajarata fa takūnā minaẓ-ẓālimīn(a).
پھر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ "تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا، ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے"
📝 حاشیہ
١٥) شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو دھوکہ دیا کہ جو کوئی اس درخت کا پھل کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا (دیکھیے سورہ طہ/٢٠: ١٢٠)۔ ١٦) یعنی وہ ظالم لوگ جن کے عمل کا نتیجہ خود ان کے لیے یا دوسروں کے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے۔