سورۃ البقرہ
يَـٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا۟ بِعَهْدِىٓ أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّـٰىَ فَٱرْهَبُونِ
Yā banī isrā'īlażkurū ni‘matiyal-latī an‘amtu ‘alaikum wa aufū bi‘ahdī ūfi bi‘ahdikum, wa iyyāya farhabūn(i).
اے بنی اسرائیل! ذرا خیال کرو میری اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی، میرے ساتھ تمھارا جو عہد تھا اُسے تم پورا کرو، تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اُسے میں پورا کروں گا اور مجھ ہی سے تم ڈرو
📝 حاشیہ
١٩) اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام ہے۔ اسی لیے بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہیں جنہیں اب یہودی قوم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ٢٠) بنی اسرائیل کے اللہ سبحانہ و تعالی سے کیے گئے عہد و پیمان میں یہ شامل تھا کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے جیسا کہ تورات میں مذکور ہے۔